لداخ کے مطالبات اور حکومت کے عزائم: ایک تجزیاتی مطالعہ

تحریر: سید ہاشم رضوی
لیہہ ضلع میں 24 ستمبر 2025 کو پھوٹنے والے پرتشدد واقعات نے نہ صرف لداخ بلکہ پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک ایسا خطہ جو صدیوں سے امن و سکون کی علامت مانا جاتا تھا، اچانک آگ اور گولیوں کی لپیٹ میں آگیا۔ پانچ افراد جاں بحق ہوئے، درجنوں زخمی ہوئے، سرکاری دفاتر اور گاڑیاں نذرِ آتش ہوئیں جبکہ معروف ماہرِ ماحولیات اور سماجی کارکن سونم وانگچک کو نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔یہ صورتِ حال محض ایک حادثہ نہیں بلکہ اس کے پسِ منظر میں لداخ کے عوامی مطالبات اور حکومت ہند کے ترقیاتی عزائم کی کشمکش صاف نظر آتی ہے۔
عوامی مطالبات:لداخ کے عوام کا احتجاج اس وقت دو بنیادی نکات پر مرکوز ہے:1. ریاستی درجہ (Statehood) – تاکہ عوام اپنی نمائندگی اور قانون سازی میں براہِ راست شریک ہوسکیں۔2. آئین ہند کے چھٹے شیڈول میں شمولیت – تاکہ زمین، جنگلات، چراگاہوں اور وسائل پر مقامی برادری کو آئینی تحفظ حاصل ہو۔لداخ کی97 فیصد آبادی قبائلی ہے، جس بنا پر مقامی تنظیمیں، جیسے اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (KDA)، اس مطالبے کو جائز اور آئینی قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق ریاستی درجہ انہیں سیاسی خودمختاری دے گا جبکہ چھٹا شیڈول ان کے وسائل، ثقافت اور ماحولیات کو بڑے صنعتی منصوبوں کے اثرات سے بچا سکے گا۔
ہندوستان کے آئین میں بارہ شیڈول ہیں۔ ان میں سے پانچواں شیڈول کم یا بکھری ہوئی قبائلی آبادیوں کے لیے ہے (مثلاً راجستھان، مدھیہ پردیش) جہاں صرف مشاورتی حیثیت کا Tribal Advisory Council بنایا جاتا ہے۔
چھٹا شیڈول زیادہ اختیارات دیتا ہے اور فی الحال آسام، میگھالیہ، تریپورہ اور میزورم میں نافذ ہے۔ اس کے تحت Autonomous District Councils (ADCs) قائم ہوتی ہیں جنہیں قانون سازی، محصولات اور زمین کے تحفظ کے وسیع اختیارات ملتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اسے “Constitution within Constitution” کہا ہے۔
حکومت ہند کا موقف:
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ لداخ کو ترقی اور خوشحالی کی نئی راہوں پر گامزن کر رہی ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں۔
معدنی وسائل کی کھدائی: خصوصاً لیتھیم جیسی قیمتی دھات کے مائننگ پروجیکٹس۔توانائی کے منصوبے: میگا سولر پارکس اور پاور پلانٹس۔
کنیکٹیویٹی: ٹنل، ہائی ویز، ہوائی اڈے اور انٹرنیٹ سہولیات میں بہتری۔تعلیمی و تحقیقی ادارے: لداخ یونیورسٹی، ISRO مراکز، Seed Bank وغیرہ۔حکومت کے مطابق یہ اقدامات روزگار میں اضافہ کریں گے اور خطے کو قومی ترقی کے دھارے میں لائیں گے۔
دوسری طرف مقامی تنظیموں کا اعتراض ہے کہ ترقی کے ثمرات زیادہ تر بڑی کمپنیوں اور باہر سے آنے والے سرمایہ کاروں کو مل رہے ہیں۔
سولر اور مائننگ پروجیکٹس چراگاہوں کو ختم کر رہے ہیں، جس سے خانہ بدوش قبائل جیسے چانگپا متاثر ہورہے ہیں۔بڑے منصوبے گلیشیئرز، ماحولیات اور روایتی معیشت (مالداری اور مقامی ٹورزم) کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر چھٹے شیڈول کے تحت خودمختار ڈسٹرکٹ کونسل قائم ہو جائے تو مقامی آبادی اپنے وسائل پر خود فیصلے کر سکے گی۔
اگر حکومت کوڈر ہے کہ اگر چھٹا شیڈول نافذ کرتی ہے تو صنعتی منصوبے محدود ہوسکتے ہیں جن کا انہوں نے وعدہ کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے مفادات متاثر ہوں گے۔اور سرمایہ کار حکومت پر ناراض ہونگے۔اگر مطالبہ مسترد کیا جاتا ہے تو عوامی بےچینی اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوگا، جو مزید سیاسی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔فی الحال مرکزی وزارت داخلہ نے لداخ کے اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کو مذاکرات کے لئے دہلی بلایا ہے ۔اب لداخی عوام اس مذکراتی عمل پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔اگر اس ملاقات میں حکومت لداخی نمایندوں کو اعتماد میں لینے میں کامیاب ہوا توحالات خودبہ خود نارمل پر آسکتاہے ۔لیکن اگر ایم ایچ اے اور لداخی قیادت کی مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تولداخ میں غیر استحکام کا ہونا یقینی ہے ۔کیونکہ لداخ کی موجودہ کشیدگی محض ایک احتجاج نہیں بلکہ خطے کے مستقبل پر بنیادی سوال ہے۔کیا لداخ ترقی کے نام پر اپنی زمین، وسائل اور ثقافت قربان کرے گا یا آئینی تحفظ کے ساتھ ایک پائیدار ماڈل اپنائے گا؟
یہی سوال آنے والے دنوں میں حکومت اور لداخی قیادت کے تعلقات کی سمت طے کرے گا۔

0 Comments

Leave a Reply

XHTML: You can use these tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>