Leh, August 20, 2025: The Two-Monthly Poetry Digest in Bhoti Language was officially released by Secretary, School Education, UT Ladakh, Banu Prabha, in the presence of Director of School Education Tsering Paldan, Chief Education Officer Leh, and Principal, DIET Leh on 19th August 2025. The release ceremony was held at Auditorium Hall of District Institute of Education and Training (DIET), Leh.
The Bhoti Digest was meticulously edited and compiled by Venerable Stanzin Nurbo, DIET Leh. This ed...
POETRY
LAACL Kargil Organizes Multilingual Mushaira Honoring Karbala’s Legacy
Kargil, July 16, 2025: The martyrdom of Hazrat Imam Hussain (AS) and his companions remains a timeless symbol of truth, justice, and resistance against tyranny. It continues to inspire generations to never surrender before falsehood. This was highlighted by the Hon’ble Executive Councilor for Social Welfare, LAHDC Kargil, Aga Syed Mujtaba, during the District-Level Multilingual Hussaini Mushaira organized by the Ladakh Academy of Art, Culture and Languages (LAACL), Kargil at the Academy Hall...
Poetry Recitation Event at LAMO, Leh Features Renowned Poet Pramod Jain
LEH, LADAKH May 26, 2025 – A captivating poetry recitation event ‘Humour in Pathos’ was held on May 24 at the Ladakh Arts and Media Organisation (LAMO) in Leh, drawing an esteemed gathering of literary enthusiasts and cultural figures. The event’s highlight was a poignant reading by Pramod Jain, IAS (Retd.), a poet and chairman of New Districts Committee of UT Ladakh
Mr. Jain shared selected poems and verses from his evocative book, “Lockdown and Other Poems.” This collection, born during the...
غزل
یوں ہی کسی یاد میں میرا دل کباب ہے
آنسو نہیں ان آنکھوں میں پیار کا شراب ہے
چھاؤں میں تیری زلف کی ایسا شباب ہے
جیسے دریاۓ سورو میں اٹھتا حباب ہے
تم کو ذرا اثر نہیں اے آسماں جناب
روتا ہے بے کسی پہ میری کہ آفتاب ہے
اک آن کے لۓ تیرا جلوہ دکھا ہمیں
کیوں اے صنم سدا تیرے رخ پر نقاب ہے
اوروں کو تو نے اپنے حرم میں بلا لیا
میرے نصیب میں کیوں تیرے گھر کا طواف ہے
کانٹے بچھاؤ اور میری راہ میں اے رقیب
میرے لۓ ہر ایک کانٹا گلاب ہے
دہشت ہے ,غم ہے ,ظلم ہے اور ...
آه قبله اول
مظلومیت کی اوج ہے اک کر بلا ہے یہ
یارب میرے دیار میں کیسی بلا ہے یہ
دن رات یاں ہے عصمت ناموس تارتار
بچوں پہ تازیانوں کی برسات بار بار
دشمن کے ہاتھوں قدس کی حرمت ہے پائیال
ہم پہ گراں ہیں قید و سلاسل کے ماہ و سال
یوں تو بہت ہیں اے خدا دنیا میں کلمہ گو
ترکی سے تابخاک عرب دین حق کی لو
ہر سمت مسجدوں سے صدائے اذان ہے
شہروں میں مسلموں کی بڑی آن بان ہے
ہر شہر مسلموں کی ہے نعمت سے مالامال
اکل و شرب کا ان کو نہیں ہے کوئی ملال
سچ ہے صلواۃ و صوم کے پابند بھی ہیں وہ
قاری ہیں صوت و لحن میں سازند بھی ہیں وہ
غزیانگنوک
سنگینگی میک پو فیسے لتوس چوقچیک زیرے غزیانگنوک
سولہ زنزوس ستورے نگوین دوک سو ختے ملبیانگ نوک
زوسے غاصب کونی میزائلی زہریس توقسے
ہسا شاون ژھقسمہ گیورے فرونی امے فانگمیانگ نوک
لڈوروبا یونگسے ننگون ژھن فوتے فیستا جق ژم
زدیکپا ژام ژھیکسے خرو غاصبی بم کھا میانگنوک
سنینگا سنینگ ژھا میگا میکچھو کتو یودنا زیرچھیک
سغیس لبیک یا غزہ نی لچے یودنا کھیانگ نوک
قدس صیہونی لغیانگ نا فوتے کھیونگما ژھن نگین
رپاہو حماسی رماغیس ستروق کھورے یود لقپیانگ نوک
نگی نگوچن سید حسن نصر اللہ حزب اللہ
کھونگی ...
نتن یاہو
ہُوا ہے اب الٰہی فوج۔ بے قابو نتن یاہو
قسم اللہ کی نہ اب بچے گا تُو نتن یاہو
تُو کب تک گود میں امریکہ کے چھپ جاؤ گے ظالم
قریباً اُس کے بھی توڑیں گے ہم بازو نتن یاہو
کسی پر بس چلے تیرا تو تُو مغرور مت ہونا
خدائی فوج پر چلتا نہیں جادُو نتن یاہو
تم اپنے اسلحوں پر ناز کرتے پھر رہے ہو نا!
تمہارا ناک رگڑیں گے ہم ہی ہر سُو نتن یاہو
تمہاری ضد نے جب چھینی ہے سانس معصوم کلیوں کی
تیرے کردار پہ اب ہو رہا تُھو تُھو نتن یاہو
حماس،القدس،حذب اللہ، میرا رہبر ہے جب زندہٰ
تُو اُن کے سامنے کیا ہے؟ بس ا...
حمدیہ نعت بمناسبت عید میلادالنبیﷺ
عید پہ دل سے ہمیں خوشیاں منانی چاہیے
لیکن اُس مولود کی بھی شادمانی چاہیے
ہفتہ ءِوحدت مبارک جشن ہے میلاد کی
رحمۃ اللّعالمین کی مہربانی چاہیے
وہ خمینی حکمت و عرفان کی جو تصویر تھی
عالم اُن سا ہر زمانے میں قرآنی چاہیے
رہبری سےخامناءی کی بصیرت مل گیی
عالمِ اسلام کو ان کی رہنمائی چاہیے
وحدت و اتحاد اُمت ہے زمانے کی پکار
سوئے بطحاء سے ہوا بس اک سہانی چاہیے
یانبیﷺ رحمت تیری ہم پر بہت سایہ فگن
دوجہاں میں رحمتوں کی سائبانی چاہیے
مانگ لواجر رسالت رب نبیﷺ سےکہہ اٹھے
اقرباء سے بس موَدّت...
استغاثہ(بحضور امام عصر عج)
بے سود رنگ و بو کے تماشے ترے بغیر
بے جان ہیں یہ پیار کے چرچے ترے بغیر
دنیا اسیربے سرو سامان ہے ہنوز
بے رنگ ہیں فلک پہ ستارے ترے بغیر
سب انتشار اور پراکندگی میں ہیں
ہنگامہء جہاں کے فسانے ترے بغیر
منبر بھی ،مدرسے بھی ہیں واعظ بھی ہیں مگر
ناپید ہیں وفا کے سلیقے ترے بغیر
لہجوں میں واعظوں کے نہ سوزو گداز ہے
بیٹھے ہیں مل کے خلد کمانے ترے بغیر
اے نافذ شریعت پرور دگار آ
تاریک ہیں یہ دن کے اجالے ترے بغیر
آ پھر جلا دلوں میں محبت کی روشنی
گذرے ہیں نفرتوں کے زمانے ترے بغیر
خمار تومیلی
نذرانہ عقیدت
سنو جہان کے یہ پیچ وخم نہیں ہوتے
اگر حسین نہ ہوتے تو ہم نہیں ہوتے
اگر نہ کرتا خدا علم کے دیۓ روشن
جہالتوں کے یہ پردے بھی کم نہیں ہوتے
انہے کتاب سے ملتی نہیں ہے راہ نجات
جو بحر کرب وبلا میں بھی ضم نہیں ہوتے
کہا یہ دین نے بے رنگ و بو میں ہو جاتا
رسول ہوتے اگر ابنِ عم نہیں ہوتے
یہ جانتے ہیں زمانے کے ظالم و جابر
جلا کے گھر کبھی عشاق کم نہیں ہوتے
وہ انجمن میں علمَ تو ضرور رکھتے ہیں
مگر حسین سے وہ یم بہ یم نہیں ہوتے
خدا کا شکر ہے ہم عاشقان سرور ہیں
فریب و مکر کے سانچے میں ہم نہیں ہوتے
