تحریر:مجتبیٰ علی شجاعی
ایران کے حالیہ حالات کو محض وقتی بدامنی یا داخلی اضطراب کے طور پر دیکھنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ یہ واقعات دراصل اس طویل کشمکش کی تازہ کڑی ہیں جو اسلامی جمہوریہ ایران اور عالمی استکباری قوتوں کے درمیان دہائیوں سے جاری ہے۔ اس بار بھی طریقۂ واردات وہی تھا۔عوامی مشکلات کو بنیاد بنا کر جذبات کو بھڑکانا، اختلافِ رائے کو تشدد میں بدلنا، اور پھر اس پورے عمل کو ’’عوامی تحریک‘‘ کا نام دے کر عالمی سطح پر پیش کرنا۔
مگر تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جمہوری ا...


