ہر وار سہہ کر آگے بڑھتا انقلاب اسلامی ایران
تحریر:مجتبیٰ علی شجاعی
ایران کے حالیہ حالات کو محض وقتی بدامنی یا داخلی اضطراب کے طور پر دیکھنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ یہ واقعات دراصل اس طویل کشمکش کی تازہ کڑی ہیں جو اسلامی جمہوریہ ایران اور عالمی استکباری قوتوں کے درمیان دہائیوں سے جاری ہے۔ اس بار بھی طریقۂ واردات وہی تھا۔عوامی مشکلات کو بنیاد بنا کر جذبات کو بھڑکانا، اختلافِ رائے کو تشدد میں بدلنا، اور پھر اس پورے عمل کو ’’عوامی تحریک‘‘ کا نام دے کر عالمی سطح پر پیش کرنا۔
مگر تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جمہوری اسلامی ایران کوئی ایسا معاشرہ نہیں جسے چند منظم فتنوں، میڈیا مہمات یا بیرونی اشاروں پر توڑا جا سکے۔ایرانی سماج کے اندر مسائل ہیں، معاشی دباؤ ہے، روزمرہ زندگی میں مشکلات ہیں، اور ان حقیقتوں سے خود ایرانی قیادت بھی انکار نہیں کرتی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان مسائل کا حل آتش زنی، توڑ پھوڑ اور مقدس مقامات کی بے حرمتی ہے؟ کیا کسی بھی مہذب معاشرے میں احتجاج کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ مساجد، درگاہیں اور عوامی املاک جلائی جائیں؟
* Click to Follow Voice of Ladakh on WhatsApp *
حالیہ واقعات میں یہی وہ نکتہ تھا جہاں احتجاج کا دعویٰ اپنی اخلاقی حیثیت کھو بیٹھا اور ایک منظم فساد کی شکل اختیار کر گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب اکثریتی ایرانی عوام نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے وطن، اپنی تہذیب اور اپنے انقلاب کو یرغمال نہیں بننے دیں گے۔اس پورے بحران میں رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای (مدظلہ العالی )کی قیادت ایک ایسے محور کے طور پر سامنے آئی جس نے انتشار کے ماحول میں بھی توازن اور بصیرت کو برقرار رکھا۔ نہ اشتعال انگیز بیانات، نہ جلد بازی پر مبنی فیصلے، بلکہ حالات کی گہری سمجھ اور قوم پر غیر متزلزل اعتماد۔ یہی قیادت تھی جس نے واضح کر دیا کہ اصل جنگ سڑکوں پر نہیں بلکہ شعور کی سطح پر لڑی جا رہی ہے، اور یہی شعور آخرکار فیصلہ کن ثابت ہوا۔
جوں جوں حالات آگے بڑھے، بیرونی کردار بھی زیادہ کھل کر سامنے آتا گیا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی و اسرائیلی عہدیداروں کے بیانات نے کسی شک و شبہے کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی کہ ایران میں بدامنی کو محض دیکھا نہیں جا رہا تھا بلکہ اسے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ ’’ایرانی عوام کی مدد‘‘ جیسے جملے دراصل اسی مداخلت کا پردہ دار اعتراف تھے۔ یہ وہی پرانا نسخہ تھا جو دنیا کے کئی ممالک میں آزمایا جا چکا ہے۔پہلے پابندیاں، پھر معاشی دباؤ، اس کے بعد احتجاج کو ہوا، اور آخر میں سیاسی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش۔
امریکہ کا یہ رویہ سب سے زیادہ متضاد اور منافقانہ تھا۔ ایک طرف ایران پر ایسی سخت پابندیاں عائد کی گئیں جنہوں نے عام شہری کی زندگی کو متاثر کیا، دواؤں، تجارت اور مالی نظام کو نشانہ بنایا، اور دوسری طرف انہی مشکلات کو بنیاد بنا کر ہمدردی کے بیانات دیے گئے۔ حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایرانی عوام کی معاشی مشکلات کی بنیادی وجہ یہی غیر قانونی امریکی پابندیاں ہیں، جن کا مقصد عوام کو نظام کے خلاف کھڑا کرنا تھا۔ مگر اس بار بھی یہ حربہ الٹا ثابت ہوا اور عوام نے مشکلات کے باوجود بیرونی مداخلت کو سختی سے مسترد کر دیا۔
اسی تناظر میں سابق شاہی خاندان اور اس سے وابستہ عناصر کے خواب بھی ایک بار پھر بکھر گئے۔ رضا شاہ اور اس کے حامی آج بھی اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ ایران کو دوبارہ مغربی طرزِ زندگی، اخلاقی انحطاط اور بے حیائی کی طرف واپس لے جایا جا سکتا ہے۔ چند ہزار سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بیرونی سرپرستی کو عوامی تائید سمجھنے والے یہ عناصر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایرانی معاشرہ اب وہ نہیں رہا جو نصف صدی پہلے تھا۔ آج ایرانی عوام سیاسی شعور، دینی شناخت اور تاریخی تجربے سے گزر چکے ہیں، اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ انہیں کن راستوں پر دوبارہ نہیں جانا۔
انقلاب اسلامی کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ اسے محض ایک حکومتی ڈھانچے کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ انقلاب ایک فکری اور روحانی تحریک ہے جو ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں۔ اس سے دنیا بھر کے کروڑوں انسان جذباتی، فکری اور اخلاقی طور پر وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس انقلاب کو چیلنج کیا جاتا ہے، اس کا ردعمل محض داخلی نہیں رہتا بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیا جاتا ہے۔ یہ انقلاب شہداء کے خون سے سینچا گیا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ خون سے جڑی تحریکیں وقتی دباؤ سے ختم نہیں ہوتیں۔
حالیہ بحران میں یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی کہ ایرانی عوام اور قیادت کے درمیان فاصلہ نہیں بلکہ ایک مضبوط رشتہ موجود ہے۔ جب فتنہ پھیلانے والوں نے سڑکوں کو میدانِ جنگ بنانے کی کوشش کی، تو عام شہری انقلاب کے دفاع کے لیے سامنے آئے۔ یہ مناظر کسی ریاستی جبر کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ اس اجتماعی شعور کا اظہار تھے جو دہائیوں کی جدوجہد سے پروان چڑھا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب بیرونی قوتوں کو اندازہ ہوا کہ ان کے اندازے ایک بار پھر غلط ثابت ہو گئے ہیں۔
افسوسناک پہلو یہ رہا کہ عالمی میڈیا نے اس پورے معاملے میں غیر جانبدار کردار ادا کرنے کے بجائے جانبداری کا راستہ اختیار کیا۔ ایران کے خلاف گھنٹوں پر محیط نشریات، مبالغہ آرائی اور یک رخا تجزیے، مگر امریکہ اور اسرائیل کی مداخلت پر خاموشی،یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ عالمی میڈیا بھی اب طاقت کے مراکز سے آزاد نہیں رہا۔ جمہوریت کا چوتھا ستون کہلانے والا یہ ادارہ اس موقع پر سچ بولنے میں ناکام دکھائی دیا۔
بالآخر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حالیہ سازش نے انقلاب اسلامی ایران کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا ہے۔ دشمن کے منصوبے ایک بار پھر ناکام ہوئے، رجیم چینج کے خواب ادھورے رہ گئے، اور ایرانی قوم نے یہ ثابت کر دیا کہ اختلافات اپنی جگہ، مگر بیرونی مداخلت اور تخریب ناقابلِ قبول ہے۔ یہ انقلاب کسی فرد، کسی حکومت یا کسی وقتی سیاسی معادلے کا نام نہیں، بلکہ ایک زندہ فکر ہے جو ہر آزمائش کے بعد پہلے سے زیادہ واضح اور توانا ہو کر سامنے آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی، تمام دباؤ، پابندیوں اور سازشوں کے باوجود، انقلاب اسلامی ایران نہ صرف قائم ہے بلکہ اپنے حامیوں کے لیے امید، استقامت اور خودداری کی علامت بنا ہوا ہے۔ اور جب تک یہ شعور زندہ ہے، تاریخ کا پہیہ اسی سمت گھومتا رہے گا جس سمت اس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے خود کو ثابت کیا ہے۔
جمہوری اسلامی ایران کی مدبرانہ قیادت اور غیور عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش ہیں کہ ایک مرتبہ پھر انہوں نے دنیا کو انقلاب اسلامی کی طاقت،غیرت اور حمیت کا اندازہ دلایا ۔اللہ کرے یہ انقلاب ،ترقی کے منازل تیزی سے طے کریں ۔
Disclaimer: The opinions expressed in this article are those of the author and do not necessarily reflect the views of Voice of Ladakh or its editorial team.


0 Comments