امن کے نام پر امریکی بالادستی

از قلم:مجتبیٰ علی شجاعی

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں الفاظ اور اعمال کے درمیان فاصلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ امن،انسانی حقوق اور عالمی ذمہ داری جیسے خوش نما نعروں کے پیچھے طاقت، مفادات اور بالادستی کی وہ سیاست کارفرما ہے جس نے مشرق وسطیٰ کو مسلسل آگ میں جھونک رکھا ہے۔ اسی پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس کا تصور سامنے آتا ہے، جو اپنی ساخت، وقت اور مقاصد کے اعتبار سے کئی سنجیدہ اور بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ٹرمپ کا یہ نام نہاد منصوبہ اس وقت سامنے آیا جب غزہ عملی طور پر کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ستر ہزار سے زائد جانوں کے ضیاع، لاکھوں کے بے گھر ہونے، مکمل شہری انفراسٹرکچر کی تباہی اور نسلوں کے مستقبل کے ملبے تلے دب جانے کے بعد اگر کسی بورڈ کی تشکیل یاد آتی ہے تو یہ انسانی ہمدردی سے زیادہ سیاسی کنٹرول کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ غزہ کی بحالی کیوں ضروری ہے، سوال یہ ہے کہ تباہی کے دوران خاموش رہنے والے بلکہ اس تباہی کے پس پردہ قوتیں، آج کس اخلاقی جواز کے ساتھ منتظم بننے چلے ہیں۔

* Click to Follow Voice of Ladakh on WhatsApp *

یہی وہ نکتہ ہے جہاں یہ منصوبہ اقوام متحدہ کے وجود اور اس کی ساخت پر براہ راست ضرب لگاتا ہے۔ اگر عالمی تنازعات کے حل، انسانی بحرانوں اور جنگی جرائم کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ موجود ہے تو پھر ایک متوازی بورڈ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ درحقیقت یہ تصور اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں عالمی اداروں کو بے اختیار اور طاقتور ریاستوں کو فیصلہ کن کردار سونپ دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اقوام متحدہ کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ عالمی نظام کو ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف دھکیل دیتا ہے۔

اس بورڈ سے جڑا سب سے متنازع پہلو اس کی قیادت کا تصور ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آپ کو تاحیات سربراہ کے طور پر پیش کرنے کی بات کی ہے۔تاحیات قیادت کا تصور جمہوریت، جواب دہی اور اجتماعی نگرانی کے اصولوں کی نفی کرتا ہے۔ یہ سوال ناگزیر ہے کہ جو شخص خود اپنے ملک میں ادارہ جاتی تصادم، سیاسی انتشار اور آئینی بحرانوں کی علامت رہا ہو، وہ کسی تباہ حال خطے کے مستقبل کا مستقل فیصلہ ساز کیسے بن سکتا ہے؟ یہ دراصل جدید دنیا میں سیاسی بادشاہت کی ایک نئی شکل ہے، جسے امن کے لبادے میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اسی پس منظر میں بعض مسلم ممالک کے رویے بھی تشویش ناک ہیں۔ خاص طور پر پاکستانی وزیر اعظم کی جانب سے اس منصوبے یا اس شخصیت کے لیے غیر معمولی عجلت میں آمادگی نے کئی حلقوں میں حیرت اور سوالات کو جنم دیا۔ ننگے پیر دوڑ لگا کے ٹرمپ کے بغل میں بیٹھ کر جی جی کرنا اور ایک ایسے شخص کے لیے جلدی شرکت اور مثبت اشارے دینا، جو فلسطین کے معاملے میں اسرائیلی جارحیت کا کھلا یا بالواسطہ حامی رہا، کیا واقعی امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کی ترجمانی کرتا ہے؟ ٹرمپ کے اس امپورٹیڈ حکمران کا یہ رویہ اصولیت کے بجائے دباؤ اور مصلحت کی جھلک پیش کرتا ہے۔اسی طرح ٹرمپ کے اس نام نہاد غزہ بورڈ میں جن دیگر ممالک کے نمائندوں نے حاضری لگائی، ان کا کردار بھی شدید تنقید کا متقاضی ہے۔ یہ حاضری دراصل غزہ کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اس تباہی کو سیاسی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے ممالک کی شرکت سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ وہ انصاف کے بجائے عالمی طاقتوں کی خوشنودی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر واقعی ان ممالک کا مقصد امن اور انسانی فلاح ہوتا تو وہ سب سے پہلے جنگ بندی، محاصرے کے خاتمے اور جنگی جرائم کے احتساب کا مطالبہ کرتے، نہ کہ ایک ایسے بورڈ کا حصہ بنتے جس کی قیادت اور ایجنڈا خود متنازع ہے۔یہاں ہمارے ملک کی قیادت داد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس نام نہاد بورڈ میں دبے پاؤں چلنے سے گریز گیا۔

امن کے دعوے دار ٹرمپ کی اپنی ریاست کے حالات بھی ان کے بیانیے سے میل نہیں کھاتے۔ امریکہ کے اندر لاکھوں افراد ان کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ، امریکہ میں نسلی امتیاز اور سماجی بے چینی میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ جو شخص اپنے معاشرے میں انصاف، ہم آہنگی اور استحکام فراہم نہ کر سکا، وہ عالمی امن کا علمبردار بننے کا اخلاقی حق کیسے رکھتا ہے؟ یہی تضاد ان کے ہر دعوے کو کمزور بنا دیتا ہے۔اسی تضاد کی انتہا ٹرمپ کے نوبل امن انعام کے خواب میں نظر آتی ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بربادی کے بیج بونے والی پالیسیوں کے معمار آج خود کو امن کے داعی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اگر بربریت کے ذمہ داروں کو امن کے اعزاز سے نوازا جاتا تو یہ نہ صرف انعام کی توہین تھی بلکہ عالمی اخلاقیات کی شکست کا اعلان بھی۔

ان تمام حالات کے برعکس ایران کا کردار ایک مختلف زاویے سے سامنے آتا ہے۔ مسلسل پابندیوں، اقتصادی دباؤ، سفارتی تنہائی اور عسکری دھمکیوں کے باوجود ایران نے اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ایران نے واضح طور پر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کی مرضی کے مطابق اپنی پالیسی نہیں بدلے گا، اور یہی خودداری اسے مسلسل نشانے پر رکھے ہوئے ہے۔

رہبرِ انقلاب اسلامی اس خودمختار سوچ اور مزاحمتی فکر کی علامت بن چکے ہیں۔ وہ صرف ایران کے قومی رہنما نہیں بلکہ ایک عالمگیر فکری شخصیت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں، جن کی قیادت نے یہ ثابت کیا کہ سیاسی قیادت اگر اصولوں سے جڑی ہو تو وہ سرحدوں سے ماورا اثر رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مقبولیت محض ایک ریاست تک محدود نہیں۔

نظام ولایتِ فقیہ کو بھی اسی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ یہ محض حکمرانی کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی نظام ہے، جس کے تحت دنیا بھر کے شیعہ اور دیگرطبقات خود کو ایک نظریاتی رشتے میں بندھا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ یہ نظام طاقت، سرمائے یا خوف پر نہیں بلکہ اصول، استقلال اور اجتماعی شعور پر قائم ہے۔

آخرکار یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ غزہ امن بورڈ جیسے منصوبے، ایران پر دباؤ اور اقوام متحدہ کو پس منظر میں دھکیلنے کی کوششیں ایک ہی خوف سے جنم لیتی ہیں۔ وہ خوف کہ دنیا اب آہستہ آہستہ امن کے نام پر کی جانے والی سیاست کو پہچاننے لگی ہے۔ اس تمام تر منظرنامے میں ایک بات طے ہے کہ ایران زندہ ہے، اور یہ زندگی صرف جغرافیے کی نہیں بلکہ فکر، نظریے اور خودداری کی زندگی ہے۔

Disclaimer: The opinions expressed in this article are those of the author and do not necessarily reflect the views of Voice of Ladakh or its editorial team.

0 Comments

Leave a Reply

XHTML: You can use these tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>