دہلی میں تین روزہ بین الاقوامی قرآن و سائنس کانفرنس اختتام پذیر
دہلی میں تین روزہ بین الاقوامی قرآن و سائنس کانفرنس کا اختتام ہوگیا۔ یہ کانفرنس 28 سے 30 جنوری کے درمیان شہید بہشتی یونیورسٹی ایران، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز اور ولایت پبلی کیشن کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔
کانفرنس میں کئی ممالک کے دانشوروں کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ماہرین نے شرکت کی اور اپنے مقالات پیش کیے۔ کانفرنس میں قرآن اور سائنس، قرآن اور سوشل سائنس، اور قرآن اور انجینئرنگ سائنس جیسے اہم موضوعات شامل تھے۔
کانفرنس میں کرگل اور لیہ کے طلبہ نے بھی شرکت کی۔ اسی دوران کرگل و لیہ کے طلبہ نے شہید خدمت آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی زوجہ پروفیسر جمیلہ علم الہدی اور ان کی صاحبزادی سے ملاقات کی، جس کے بعد ایک تعزیتی نشست کا اہتمام بھی کیا گیا۔
تعزیتی جلسے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالر فیروز ربانی نے تمام ملتِ لداخ کی نمائندگی کرتے ہوئے شہید خدمت آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی شہادت پر تعزیت پیش کی اور ان کی عظیم خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر فیروز ربانی نے ڈاکٹر سید محمد رضا کے ساتھ مل کر لکھی گئی ایک مشترکہ نظم پیش کی۔
نظم سننے کے بعد پروفیسر جمیلہ علم الہدی نے اظہارِ تشکر کیا اور نوجوانوں کے جذبے، عقیدت اور شعور کو سراہا۔ انہوں نے ہمیشہ حق کا ساتھ دینے کی تلقین کرتے ہوئے اس تعزیتی نشست کو اپنے سفر کی بہترین محفل قرار دیا۔
پروگرام میں آل کرگل لداخ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن دہلی کی رکن آسیہ بانو کی قیادت میں طالبات نے ایک تحریری تعزیت نامہ بھی پیش کیا۔
اس موقع پر موجود نمائندۂ ولی فقیہ ڈاکٹر حکیم الٰہی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شہید ابراہیم رئیسی کو ایک عظیم رہنما قرار دیا۔
آخر میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر اقترامدار خان نے تمام طلبہ اور کانفرنس کے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان بلا تفریقِ مسلک اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی ایک عظیم قائد تھے۔


0 Comments